Friday, November 1, 2019
Lout Aaun Ga Mein (Nighat Seem) / لوٹ آؤں گا میں از نگہت سیما
Saturday, September 21, 2019
Wednesday, July 3, 2019
Haalim; Episode 22 (Nemrah Ahmed) / حالِم؛ بائیسواں باب از نمرہ احمد
Haalim; Episode 22 (Nemrah Ahmed)
حالِم؛ بائیسواں باب از نمرہ احمد
بائیسواں باب
وقت مہربان
اس کی بند آنکھوں کے پارصرف اندھیرا تھا۔ ذہن کا پردہ کسی بھی خواب سے خالی تھا۔
کھڑکی کے باہر کی کار کا ہارن سنائی دی تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھی۔ پھرارد گرد یکھا۔
وہ قدیم ملا کہ میں نہیں تھی۔ وہ کےایل کے ایک موٹل روم میں نیند سے جاگی تھی۔ اور نیند بھی ایسی جوخوابوں سے خالی تھی۔
وہ گز شتہ رات جونکر اسٹریٹ کے ایک مین ہول سے واپس اپنی دنیا میں آئی تھی۔ اور یہاں آ کے معلوم ہوا تھا کہ باقی ساری دنیا آگے بڑھ چکی تھی ۔ وہ پیچھے رہ گئی تھی۔ ایسے جنگجو کی مانند جو میدان جنگ میں پیچھے دیکھنے کی غلطی کی پاداش میں نمک کا مجسمہ بنادیا جاتا ہے۔ دوست اور دشمن.... ہارتے جیتتے جھنڈے گاڑتے آگے بڑھتے جاتے ہیں اور وہ نمک کا مجسمہ وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔ زمان و مکان کی قید سے آزاد۔
چھے سال۔ وقت نے میرے چھے سال چھین لیے۔ اس نے تنفر سے کھڑکی کے پار دیکھا جہاں نئے دن کا سورج طلوع ہورہا تھا۔
لوگ کہتے تھے وقت سب سے بڑا مسیحا ہوتا ہے۔ وقت زخم مندمل کر دیتا ہے۔ وقت یہ۔ وقت وہ ۔ لیکن کوئی تالیہ بنت مراد سے پوچھتا تو وہ کہتی کہ وقت قطعا مہربان نہیں تھا بلکہ وقت سے زیادہ ظالم کوئی نہیں تھا۔
وہ قدم ملا کہ سے جدید دنیا میں صرف ایک پوٹلی کے ساتھ آئی تھی جس میں چند زیورات تھے یا سونے کے سکے۔ جدید زمانے کی کرنسی اس کے پاس نہ تھی لیکن اسے اپنے چند کریڈٹ کارڈز کے نمبرز یاد تھے ۔ رات جب اس نے انہیں استعمال کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Sunday, June 9, 2019
Kharri Neem Kay Neechay (Naaz Kafeel Gilani) / کھڑی نِیم کے نیچے از ناز کفیل گیلانی
Kharri Neem Kay Neechay (Naaz Kafeel Gilani)
کھڑی نِیم کے نیچے از ناز کفیل گیلانی
قارئین کی خدمت میں۔۔۔
کھڑی نیم کے نیچے پیش کر رہی ہوں، یہ کتاب سب و روز کی محنت شاقہ کے بعد منظرِ عام پر آرہی ہے۔ اِس کے الفاظ میں میرا خون شامل ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ قارئین اس کو پڑھنے کے بعد اپنی قیمتی رائے سے ضرور نوازیں گے۔
نازکفیل گیلانی
Friday, June 7, 2019
Hasti Ka Ahang (Samra Bukhari) / ہستی کا آہنگ از ثمرہ بخاری
Hasti Ka Ahang (Samra Bukhari)
ہستی کا آہنگ از ثمرہ بخاری
فہرست
ہستی کا آہنگ
ہم آوارگانِ شوق
لاؤ اپنے حسن کی ناؤ
گھر تتلی کا پر
رہگزارِزیست
روایت
یہ حادثاتِ محبت
پیش لفظ
زندگی کتنا خوب صورت لفظ ہے۔ دعا کے لیے جب ہاتھ اٹھتے ہیں، پہلی دعا اپنے پیاروں کی زندگی کے لیے مانگی جاتی ہے۔
مگر وہ جن کی زندگی آزمائش سے کم نہیں، ہر صبح رات سے زیادہ تاریک ہے۔ یہ تاریکی عفریت کی طرح ہر خوشی کو نگل رہی ہے۔
گھٹا ٹوپ اندھیرا کہ ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہ دے۔
آرزوکی کرن اس ہیبت ناک تاریکی کو مٹانے میں ناکام ہے۔
اندھیرے میں آنکھ اندھی ہے، ذہن جاگ رہا ہے۔ خیالات کی رو چل رہی ہے۔ اندھیریادوں کو جنم دیتا ہے، کہانیاں یاد آتی ہیں، کہانیاں بنتی چلی جاتی ہیں۔
روتے سسکتے اپنے خوابوں کی راکھ پر بیٹھے بہت سے وجودایک ساتھ بول رہے ہیں اور وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنے کمزور ہاتھوں سے سیاہی کی چادر کو بریدہ کر دیا ہے اور روشنی کو پالیا پے۔
یہ سب اپنی اپنی بپتا کہتے ہیں، ہے کوئی سنے والا ؟ اگر ہے تو سنیے، صفحے پلٹتے جائیں۔ ہر صفحے پر ایک بپتا ہے۔ دیکھیے آپ کی کہانی کون سی ہے۔
ثمرہ بخاری
Subscribe to:
Posts (Atom)











