Showing posts with label Nemrah Ahmed. Show all posts
Showing posts with label Nemrah Ahmed. Show all posts

Wednesday, July 3, 2019

Haalim; Episode 22 (Nemrah Ahmed) / حالِم؛ بائیسواں باب از نمرہ احمد

Haalim; Episode 22 (Nemrah Ahmed)
حالِم؛ بائیسواں باب از نمرہ احمد
بائیسواں باب
وقت مہربان
اس کی بند آنکھوں کے پارصرف اندھیرا تھا۔ ذہن کا پردہ کسی بھی خواب سے خالی تھا۔
کھڑکی کے باہر کی کار کا ہارن سنائی دی تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھی۔ پھرارد گرد یکھا۔
وہ قدیم ملا کہ میں نہیں تھی۔ وہ کےایل کے ایک موٹل روم میں نیند سے جاگی تھی۔ اور نیند بھی ایسی جوخوابوں سے خالی تھی۔
وہ گز شتہ رات جونکر اسٹریٹ کے ایک مین ہول سے واپس اپنی دنیا میں آئی تھی۔ اور یہاں آ کے معلوم ہوا تھا کہ باقی ساری دنیا آگے بڑھ چکی تھی ۔ وہ پیچھے رہ گئی تھی۔ ایسے جنگجو کی مانند جو میدان جنگ میں پیچھے دیکھنے کی غلطی کی پاداش میں نمک کا مجسمہ بنادیا جاتا ہے۔ دوست اور دشمن.... ہارتے جیتتے جھنڈے گاڑتے آگے بڑھتے جاتے ہیں اور وہ نمک کا مجسمہ وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔ زمان و مکان کی قید سے آزاد۔
چھے سال۔ وقت نے میرے چھے سال چھین لیے۔ اس نے تنفر سے کھڑکی کے پار دیکھا جہاں نئے دن کا سورج طلوع ہورہا تھا۔
لوگ کہتے تھے وقت سب سے بڑا مسیحا ہوتا ہے۔ وقت زخم مندمل کر دیتا ہے۔ وقت یہ۔ وقت وہ ۔ لیکن کوئی تالیہ بنت مراد سے پوچھتا تو وہ کہتی کہ وقت قطعا مہربان نہیں تھا بلکہ وقت سے زیادہ ظالم کوئی نہیں تھا۔
وہ قدم ملا کہ سے جدید دنیا میں صرف ایک پوٹلی کے ساتھ آئی تھی جس میں چند زیورات تھے یا سونے کے سکے۔ جدید زمانے کی کرنسی اس کے پاس نہ تھی لیکن اسے اپنے چند کریڈٹ کارڈز کے نمبرز یاد تھے ۔ رات جب اس نے انہیں استعمال کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 

Saturday, May 18, 2019

Haalim; Complete (Nemrah Ahmed) / حالِم؛ از نمرہ احمد

Haalim; Complete (Nemrah Ahmed)
حالِم؛ از نمرہ احمد

Download Link
حالِم
باب نمبر

گدلے پانیوں کا سنگم
1
گھائل غزال
2
شکار باز
3
میراثِ پِدرِمَن
4
تین خزینوں کا مسکن
5
بازگشتِ دختر
6
تاشہ پَسونا
7
ہم قیدی وقت کے
8
جہاں ملتے ہیں تین چاند!
9
صنم تراش
10
وقت کے اُس پار
11
سُلطان ساز
12
وقت کے تین سوال
13
ملکہ بد
14
چناؤ
15
دوری نگارہ ملایو (ملایا کا کانٹا)
16
سات راتیں، چھے دن، پایچ خطوط
17
چور اور جاسوس
18
ساکوراہانامی
19
شہزادی کی آخری مانگ
20
اتوار۔ بائیس جنوری۔ جونکر اسٹریٹ۔ 
ملاکہ
21
 وقت مہربان
 22
 سفید گھوڑے والی شہزادی
آخری قسط
 23
مکمل ناول
Complete Haalim Novel


Haalim; Episode 21 (Nemrah Ahmed) / حالِم؛ اکیسواں باب از نمرہ احمد

Haalim; Episode 21 (Nemrah Ahmed)
حالِم؛ اکیسواں باب از نمرہ احمد

اکیسواں باب:
" اتوار۔ بائیس جنوری ۔ جونکر اسٹریٹ ملا کہ ۔ "
اتوارکی شام تھی۔
 بائیس جنوری کی تاریخ تھی۔
 اکیسویں صدی کی جونکر اسٹریٹ سامنے تھی۔
 اور یہ ملائیشیا کا شہر ملا کہ تھا۔
اس نے اپنے سامنے پھیلی جونکر اسٹریٹ پر چلتے لوگوں کو دیکھا تو یاد آیا کہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار وہ دن تھے جب اس اسٹریٹ کو پیدل چلنے والوں کی گزرگاہ بنایا جاتا تھا۔ سڑک کے کنارے اسٹالز اور بنچ لگ جاتے تھے۔ اور لوگ خریداری کرتے ہوئے کھاتے پیتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے تھے۔
قدیم ملا کہ میں ایک ماہ گزارنے کے باعث اسے اس شور ہنگامے اور رونق کی عادت نہیں رہی تھی۔ ہر شے مختلف تھی۔ صرف تاریخ اور دن وہی تھا۔ اتوار با تیس جنوری کو ہ تینوں وقت میں پیچھے گئے تھے۔ پھر اسی تاریخ اور اسی دن میں اس کی "واپسی" ہوئی تھی۔ مگر یہ واپسی ویسی نہیں تھی جیسی اس نے چاہی تھی۔ یہ واپسی بہت سفاک تھی اور اس کا دل توڑگئی تھی۔ چند گھنٹے پہلے پیش آنے والے حالات کا صد ابھی تک اس کے حواسوں پر طاری تھا۔ اتنے شور میں تنہا بنچ پر بیٹھے اسے معلوم تھا کہ اب زندگی کبھی ویسی نہیں رہے گی ۔ وقت نے اسے۔۔۔۔۔۔ بلکہ ان تینوں کو بہت سخت سزا دے ڈالی تھی۔
اب وہ کیا کرے؟ ساری محنت یہاں واپس آنے کے لیے کی تھی۔ اب یہاں سے وہ کہاں جائے؟
اس نے آنکھیں بند کیں تو پل بھر کے لیے ساری دنیا اندھیر ہوگئی۔ دھیرے دھیرے اس کا ذہن قدیم ملا کہ کی طرف جانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 

Wednesday, April 24, 2019

Iblees (Nimra Ahmed) / اِبلیس از نمرہ احمد

Iblees (Nimra Ahmed)
اِبلیس از نمرہ احمد

فہرست
اِبلیس
احمق تماشائی
گُمان
حد
لاپتا

اِبلیس
یہ کہانی جو میں آپ کو سنانے جارہی ہوں، یہ میری کہانی نہیں ہے بلکہ میں تو صرف اس کہانی کی ایک خاموش تماشائی ہوں۔ میرا یعنی حلیمہ داؤد کا نام تو اس داستان کے کسی پڑھنے والے کے لیے شاید یاد رکھنے کے لیے قابل نہ ہومگر ان دو کرداروں کا ضرور ہو گا جنہیں میں ان کے خوب صورت ناموں سے جانتی ہوں۔
فلزہ ابراہیم اور رضا حیات خان۔
میں نے ان دونوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور ایسے دیکھا ہے جیسے کسی نے نہ دیکھا ہوگا اسی لیے آج میں ایک بات کہنے کے قابل ہوئی ہوں ۔ وہ بات جس کو ہمیشہ جھٹلاتی تھی کہ شک کا فائدہ ہر ایک کونہیں دینا چاہیے۔ ہر شے کی ایک حد ہوتی ہے اور جب وہ حد پار کر لی جائے تو اس اسفل السافلین کو شک کا فائدہ نہیں دیا۔ چاہیے۔ اصولوں پر سمجھوتے نہیں کیا کرتے اور جو یہ کرتے ہیں وہ اپنے ساتھ بہت غلط کرتے ہیں۔
ہماری یہ کہانی تقریبا سال بھر پہلے سے شروع ہوئی تھی جب میں اپنے ماسٹرز کے پہلے روز سائیکالوجی کی کلاس لینے گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  

Wednesday, April 17, 2019

Haalim; Episode 24 (Nimra Ahmed) / حالِم؛ قسط نمبر 24 از نمرہ احمد

Haalim; Episode 24 (Nimra Ahmed)
حالِم؛ قسط نمبر 24 از نمرہ احمد
دیکھ تومیں رہی ہوں۔ اس نے ناخوشی سے باری باری دونوں کو دیکھا۔
بہت سے لوگوں نے نئے دوست بنا لیے ہیں۔ لگتا ہے کوئی جل رہا ہے ایڈم۔  واتن نے مسکراہٹ دبا کے کہا تو شہزادی نے کندھے اچکائے۔ ابھی اتنا برا وقت مجھ پہ نہیں آیا جوتم دونوں سے جلوں گی۔ پلیزاپنی شرلاک ہومز والی سرگرمیاں جاری رکھو، وہ سرجھٹکتی کچن کی طرف بڑھی تو ایٹم نے بُرا مانے بغیر پُکارا۔
اتنی اچھی پہیلی دکھانے والا تھا آپ کو۔
میرے پاس اپنی پہیلیاں ہیں سلجھانے کو تم اپنا کام کرو۔ وہ چپ چاپ کچن کی میز پر بیٹھ گئی اور اسی پرچی کوکھول کے گھورنے لگی (جبکہ ذہن اشعر، سوپ، پارلر اور ان تمام وارداتوں میں الجھا تھا جو اس نے کبھی کی تھیں) ۔
واتن چپ چاپ اٹھی اور چولہے پر اس کی پسند کا کچھ فرائی کرنے کا اہتمام کرنے لگی اور ایڈم کچن کی گول میز پہ اس کے مقابل آ بیٹھا اور نرمی سے پوچھا۔

  

Saturday, February 23, 2019